سلام مسنون!
آج قومی اسمبلی میں آپ کی تقریر سنی، یقیناً آپ خیریت سے ہی ہوں گے البتہ قوم کی خیریت اور خوشحالی کے لئے دعاگو ہوں۔ الیکشن لڑنے کے لئے حلف نامے میں ختم نبوت سے متعلقہ ترمیم پر آپ نے کہا کہ ختم نبوت پر حلف اٹھانے والوں پر انگلی اٹھانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔ درست فرمایا، جب تک ختم نبوت پر منتخب نمائندگان پہرہ دیتے رہیں گے تو ان پر انگلی اٹھانے کا اختیار کسی کے پاس نہیں لیکن جب وہی منتخب نمائندگان اسی حلف نامے میں مجرمانہ ترمیم کرتے ہوئے پائے جائیں اور پہلے اسے ماننے سے انکار کریں اور بعد میں اسے اصل حالت میں واپس بحال کرنے پر کریڈٹ لینا چاہیں تو انگلی تو اٹھانا بنتی ہے۔ سوال تو اٹھتا ہے کہ اس گھناؤنی سازش کے پیچھے کونسے ہاتھ ملوث تھے؟ سوال تو اٹھتا ہے کہ حلف نامے میں "میں قسمیہ حلف لیتا ہوں" کے الفاظ اتنی بھاری کیوں ہوگئے کہ ان میں ترمیم کرنا پڑی؟ سوال تو اٹھتا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے مطالبے کے باوجود اب تک وزیر قانون اور وزارتِ قانون کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کیوں نہ ہوسکی؟
آپ نے مزید فرمایا کہ کسی محلے کے مولوی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے ایمان اور کفر پر فتوے دے، "یہ معاملہ اللّه تعالیٰ کا ہے جنہوں نے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے، ہمیں اللّه تعالیٰ کے کام اپنے ہاتھ میں نہیں لینے چاہیں"۔ آپ سے نا چیز کا سوال ہے کہ اگر "محلے کے مولوی" کو یہ اختیار نہیں کہ وہ فتویٰ دے سکے تو پھر فتویٰ دینے کا اختیار آخر ہے کس کے پاس؟ میں آپ کے بیان کے اس جُز سے اتفاق کرتا ہوں کہ "یہ ہمارا کام نہیں" سو فیصد متفق، یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ یہ انہی حضرات کا کام ہے کہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی "قال اللّه تعالیٰ و قال قال رسول اللّه" پڑھتے پڑھاتے گزار دی۔ جنت اور جنہم کا فیصلہ بے شک اللّه نے ہی فرمانا ہے لیکن اسی مالک کا فرمان ہے، "وقل جآء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" (بنی اسرائیل، 81) اور تم فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا۔ جب حق بھی واضح ہے اور باطل بھی واضح ہے تو "دارالافتاء" کسی بھی مسٔولہ صورت میں تمام حقائق کو سامنے رکھ کر "فتوی" جاری کرے گا، یہی اس کا کام ہے۔ نیز یہ کہ منتخب ایوانوں میں نمائندگان کی حالت ہم سب کے سامنے ہے کہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کرنا پڑ جائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، ایسے میں وہ نمائندگان دین کی روح کے مطابق اس کی تشریح کیسے کر سکیں گے؟
یاد رہے! یہی وہ محلے کا مولوی ہے کہ جس نے آپ کے پیدا ہونے پر آپ کے کان میں آذان کہی، یہی وہ مولوی ہے کہ جس نے آپ کا نکاح پڑھوایا، (اور میری خوش گمانی ہے کہ) یہی وہ مولوی ہے کہ جو آپ کے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھاتا ہوگا۔ اور بالآخر وہ اٹل حقیقت کہ جس کا کوئی کافر بھی منکر نہیں، موت ۔ ۔ ۔ جو کہ آ کر رہنی ہے، یہی وہ مولوی ہوگا کہ جو آپ کی آخری رسومات میں پیش پیش ہوگا۔ اس "محلے کے مولوی" کو اتنی اہمیت تو ضرور دیں کہ وہ آپ کی زندگی کے معاملات میں سند رہے۔ کیونکہ یہی وہ مولوی ہے جس کے اعلان سے عید ہوتی ہے اور اسی کے پیچھے نماز ہوتی ہے۔
آپ نے مزید یہ بھی کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو واجب القتل قرار دے، یہ قاضی کا حق ہے کہ وہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت کس کو سزا سناتا ہے۔ جناب! مذہبی طبقے سے زیادہ شاید ہی کوئی اور طبقہ ہو کہ جو آپ کی بات سے اتفاق کرے گا۔ اور تبھی تو وہ آپ سے سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ دو مرتبہ کی سزا یافتہ کہ جنہیں مختلف عدالتیں، مختلف اوقات میں سزائے موت سنا چکیں ہیں، وہ "عاصیہ مسیح" کیوں اب تک جیل میں ہے؟ کیوں اس گستاخِ رسول کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا؟ جبکہ آپ ہی کے مطابق وہ واجب القتل بھی ہے کیونکہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت معزز جج صاحبان نے اس ملعونہ کو سزا سنائی تو سزا میں تاخیر کیوں؟ امید ہے کہ آپ اپنی بات کی لاج رکھتے ہوئے اس کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچائیں گے جو کہ یقیناً تختۂ دار ہی ہے۔
آپ نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر فتوے دینے والوں کے خلاف سائبر کرائم بل کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ جان کی امان پاؤں تو عرض یہ کرنا تھی کہ یہ بل اس وقت کہاں تھا جب گستاخانِ رسول بلاگرز کو آپ ہی کی حکومت نے تخفظ دیا اور انہیں بیرونِ ملک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا؟ یعنی کہ دین پر کوئی نکتہ چینی کرے تو اسے امان مل جائے اور حکومتِ وقت پر کوئی اعتراض اٹھائے تو اس کے خلاف بِل حرکت میں آئے گا۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
آخر میں جو بات آپ نے کہی، میں اسے بھی دہرا دیتا ہوں تا کہ جانبداری کا فتویٰ نہ لگے، آپ نے فرمایا کہ ہم مسلمان ہیں، اللّه آپ کو اسلام پر قائم و دآئم رکھے اور دعا ہے کہ اللّه آپ کو اس کے تقاضے سمجھنے اور انہیں نبھانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
ایک پر امید مسلمان پاکستانی
ماشاءاللہ بہت عمدہ تحریر ہے
ReplyDelete