Saturday, December 3, 2016

نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت

حضور صلی اللّه علیہ وآلہٖ وسلم کا مبارک لقب "اُمّی" ہے۔ اس لفظ کے مختلف معنیٰ ہو سکتے ہیں یا تو یہ "اُم القریٰ" کی طرف نسبت ہے۔ "اُم القریٰ" مکہ مکرمہ کا لقب ہے۔ اور یہ وہ شہر ہے کہ جس کی طرف ساری دنیا کھچی چلی آتی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم کو رب عزوجل نے قرآن ہی میں "اُم الکتاب" فرمایا یعنی تمام کتابوں سے افضل، یعنی تمام فصاحت و بلاغت کی جڑ۔ 

"اُمّی" کے یہ معنیٰ ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ حضور اقدس صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پڑھایا لکھایا۔ مگر خداوند قدوس نے آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر علمل عطا فرمایا کہ آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا۔ اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان "تبیاناً لکل شئی" (ہر ہر چیز کا روشن بیان)۔ حضرت مولانا جامی رحمتہ اللّه تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ

نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت 
بغمرہ سبق آموز صد مدرس شد

یعنی میرے محبوب صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نہ کبھی مکتب میں گئے، نہ لکھنا سیکھا مگر اپنے چشم و ابرو کے اشارہ سے سیکڑوں مدرسوں کو سبق پڑھا دیا۔

ظاہر ہے کہ جس کا استاد اور تعلیم دینے والا خلاق عالم جل جلاله ہو بھلا اس کو کسی اور استاد سے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ

ایسا "امی" کس لئے منت کش استاذ ہو
کیا کفایت اس کا "اقرء ربك الاکرم" نہیں

آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے "اُمّی" لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خداوند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں۔

اول:


یہ کہ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللّه علیہ وآلہٖ وسلم کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا استاذ نہ ہوتا کہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔

دوم:

یہ کہ کوئی شخص یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا استاد تھا تو شاید وہ حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ علم والا ہوگا۔ 

سوم:

حضؤر صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے اس لئے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کی کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔ 

چہارم:


جب حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم ساری دنیا کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

پنجم:

اگر حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا کوئی استاد ہوتا تو آپ صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی حالانکہ حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو خالق کائنات نے اس لئے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کرے۔ اس لئے حق جل شانه نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے اور کوئی اس کا استاد ہو۔ (واللّه تعالیٰ اعلم) 

علامہ شرف الدین بوصیری علیہ الرحمتہ نے قصیدہ بردہ شریف میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔


فاق النبین فی خلق و فی خلق
ولم یدانوه فی علم ولا کرم

فان من جودك الدنیا و ضرتھا
ومن علومك علم اللوح و القلم

ہمارے حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء پر فوقیت حاصل فرما چکے ہیں شکل و صورت  ظاہری اور خلق حسن باطنی میں اور کوئی نبی حضور صلی اللّه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مراتب کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا، مرتبہ، علم و کرم میں۔

حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم آپ کے ہی خوان جود و کرم سے دنیااور اس کی ضد یعنی آخرت کا وجود اور لوح و قلم کے علم آپ کے علم آپ دائرہ معلومات کا ایک جُز ہیں

  

No comments:

Post a Comment