Tuesday, December 20, 2016

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

عصر کے بعد (بروز پیر) کسی نمازی کے مسئلہ پوچھنے پر، خلافِ عادت، امامِ مسجد نے چند مسائل بیان کیے۔ دعا کے بعد ابھی فارغ نہیں ہوئے تھے کہ وردی میں ملبوس پولیس اہلکار آگے بڑھ کر امام مسجد سے مخاطب ہوا:

اہلکار: حافظ ریاض؟
امام مسجد: جی
اہلکار: آپ کے خلاف شکایت گئی ہے کہ آپ نے لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔


(میں وہیں موجود تھا، فوراً میری نظر پولیس اہلکار کے پاؤں کی طرف گئی، وہ جوتا اتار کر آیا تھا)

امام مسجد: (دیگر نمازیوں کی طرف حیرانگی سے دیکھتے ہوئے) ایسی تو کوئی بات نہیں۔
اہلکار: نئے ایس ایچ او صاحب آئے ہیں، شاہ صاحب، اچھے بندے ہیں کہنے لگے کہ ایف آئی آر کاٹنے سے پہلے ایک مرتبہ قاری صاحب کو مل آؤ۔

(پولیس اہلکار اپنی بات جاری رکھتے ہوئے)

اہلکار: آپ کے پاس جمعہ کے خطبہ  کے دوران ایک "ملازم" بھی آیا تھا آپ نے اسے لفٹ ہی نہیں کرائی، ایس ایچ او صاحب کہہ رہے تھے جا کر میری بات کرا دینا ۔ ۔ ۔

(میں مداخلت کرتے ہوئے)
ہم تو فجر کی اذان کے بعد نعت پڑھا کرتے تھے باقاعدگی سے، اس پر شکایت گئی تھی، اب تو وہ بھی بند کر دی ہے

(اسی دوران پولیس اہلکار کے موبائیل پر کال آئی)
موبائیل ٹون: "یا نبی سلام علیك"

پولیس اہلکار: لوگوں کی بھی سمجھ نہیں آتی، بہت سوں کو چڑ ہے ۔ ۔ ۔ کیا کریں اب۔

(اتنے میں ایس ایچ او صاحب فون لائن پر آئے)

پولیس اہلکار: یہ بات کریں
امام مسجد: (امام مسجد اپنی صفائیاں پیش کرنے لگے) جی میری ولدیت ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ہے، "نہیں یہ تاروں والا بازار نہیں ہے" ۔ ۔ ۔ ۔ "توقف" ۔ ۔ ۔ وہ حافظ ریاض ٭٭٭٭٭٭٭ ہیں ۔ ۔ ۔ وہ کچھ فاصلے پر ہیں یہاں سے

(موبائیل پولیس اہلکار کو پکڑا دیا)

اہلکار: آپ اگر ساتھ چلیں تو مہربانی ہوگی کہ "ملازم" آپ کو دیکھ کر پہچان لے گا کہ واقعی وہ آپ ہی کے پاس آیا تھا یا نہیں۔
امام مسجد: جی ضرور ٹھیک ہے (میری طرف دیکھتے ہوئے)
میں: (آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہ ساتھ ہی ہوں)

(تمام نمازی، بمع ڈیڑھ درجن بچے، مسجد سے باہر آتے ہیں، جہاں مزید دو اہلکار ہمارے منتظر تھے اور فانٹا کی بوتل تو میں بھول ہی گیا جو امام مسجد ہی ان تینوں کو پلوا چکے تھے)

دوسرا اہلکار: یہ مسجد کے اوپر چار اسپیکر کیوں ہیں؟ یہ ایک کریں، تین اتار دیں۔
امام مسجد: چلتا ایک ہی ہے، اسی کی تار لگی ہے، باقیوں کی تار ساتھ نہیں لگی ۔ ۔ ۔
دوسرا اہلکار: پھر بھی اتار کر نیچے رکھیں، سڑک سے نظر پڑتی ہے تو مسئلہ ہوگا۔

(اتنے میں امام مسجد قائل کر چکے تھے کہ جن حافظ ریاض کی انہیں تلاش ہیں وہ دوسری طرف ہوتے ہیں اور تینوں اہلکاروں کے ساتھ ان کی طرف چل نکلے) 

//

پتہ چلا کہ ان صاحب (یعنی حافظ ریاض صاحب "مطلوب") نے جمعہ کے بعد دعا اوپر والے اسپیکر پر مانگ لی تھی، اور چونکہ "ملازم" سے بدتمیری کر چکے تھے لہٰذا فرار بھی تھے اور اگر ایس ایچ او صاحب پنگا لینے والے ہوتے تو پرچہ کاٹا جا چکا ہوتا۔ 


یاد رہے کہ جوا نہیں کھیلا، شراب نہیں پی، چوری نہیں کی، قتل نہیں کیا، ڈاکا نہیں ڈالا ہاں مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کی یہ خلاف ورزی کی کہ اپنے رب سے اوپر والے اسپیکر میں مانگ لیا۔

اچھا ہوتا جو پرچہ کٹ جاتا ۔ ۔ ۔ آخر کو خلاف ورزی تو خلاف ورزی ہے ناں چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو!

No comments:

Post a Comment