Saturday, February 7, 2015

دور کے "بہن بھائی"


پہلے زمانوں میں بہن بھائی بننے کے لئے ماں اور باپ دو شرائط ہوا کرتی تھیں اور اگر کوئی ایک "شرط" بھی پوری نہ ہوتی تو سوتیلے پن کا احساس عمر بھر رہتا۔ اور ایک آج کا زمانہ ہے کہ جب کچھ اور نہ بن سکے تو بہن بھائی بن گئے۔ آدم زاد کو ایک دوسرے سے نسبت تو ہے ہی لیکن ہر کوئی نسبت کو سمجھ سکے اور حل کرسکے، یہ ضروری نہیں۔

ہر رشتے کی طرح بھائیوں کی بھی اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ بھائی صورتاً بھائی ہوتے ہیں، کچھ سیرتاً۔ کچھ کا تخلص بھائی ہوتا ہے اور کچھ کا لقب لیکن بہنیں سب ایک سی ہوتی ہیں، چونکہ بہنیں بیٹی کی طرح سراپا رحمت ہوتی ہیں اور رحمت کو مخصوص کرنا غیر مناسب ہے۔ 

مغرب نے اپنے معاشرتی اقدار کے خود ہی بخیئے ادھیڑ دیئے اور اس کے ملبے سے انکل، آنٹی اور کزن ہی بچے سکے، گو مزید دو رشتوں کو بھی پذیرائی بخشی گئی لیکن انہیں ہماری اقدار کے مطابق معیوب گردانا جاتا ہے۔ 

مصنوعی رشتوں میں بندھ کر اور مصنوعی جذبات کا عکاس ہو کر انسان بے حس ہوچکا ہے۔ کاغذی پھول خوشنما تو ھوسکتے ہیں، خوشبودار نہیں۔ اسی طرح مصنوعی جذبات چند لمحات کے لئے کسی کو اپنا گرویدہ تو بنا سکتے ہیں لیکن رشتے نبھانے کے لئے خلوص اور اعتماد جیسی بنیادیں درکار ہیں وگرنہ لمحاتی عہد و پیمان کوئی معنیٰ نہیں رکھتے۔ 

ھماری سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ہم اسلامی سانچے میں ڈھلنا تو نہیں چاہتے لیکن اپنے ساتھ لیبل مذہب کا ہی لگوانا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں گو اسلام کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا لیکن اسلامی قوانین کو پسند ضرور کیا جاتا ہے (دوسروں کے لیے)۔ لہٰذا عوام کی اکثریت اس طرف راغب ہے کہ شارٹ کٹ طریقے سے دنیا اور دین دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلا جائے، (میرا اس صورتحال پر تبصرہ تو ایک طرف) لیکن قرائن کی روشنی میں یہ ناممکن ہے اور معاشرے میں ابتری کی ایک بڑی وجہ ہماری یہی کج فہمی اور جہالت پسندی ہے۔


ھم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں کہ جو فرد کو اس کی انفرادی حیثیت میں عزت دینا روا نہیں رکھتا۔ کسی کی کاوش کو، محنت کو، محبت کو سراھنا ہم اپنی ہتک تصور کرتے ہیں اور اس معاملے میں حد درجہ کنجوس واقع ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ایسے فورم پر دو انسان اکٹھے ہوتے ہیں کہ جن کا آپس میں کوئی پائیدار رشتہ نہیں تو وہ کسی نہ کسی مصنوعی رشتے کا سہارا لے کر آگے بڑھتے ہیں حالانکہ ایسے میں وہ ایک دوسرے کو سیڑھی کی طرح کی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

مجھے منہ بولے رشتوں سے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ نہ تو پانچوں انگلیاں برابر ہوتی ہیں اور نہ ہی دنیا بے لوث اور مخلص لوگوں سے خالی ہوئی ہے لیکن میرا سوال محض یہ ہے کہ ھم کسی فرد کو اس کی انفرادی حیثیت میں پذیرائی بخشنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ کسی کے مخلص یا بے لوث ہونے کے لئے ہمارا منہ بولا بھائی/بہن ہونا ہی شرط کیوں ہے؟

پنجابی میں کہتے ہیں، 

"پتر کوکھ دا"
یعنی کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ بیٹا ھو نہیں جاتا، بیٹا وہی ہے کہ جسے آپ نے خود جنا ہے۔

ہر کسی کو ایک ہی ترازو میں تولنا مناسب نہیں لیکن ہمارے مخلوط نظام تعلیم میں اور دیگر دفتری معاملات میں جہاں قدرے آزادی حاصل ہے وہاں نوجوان بہن بھائی کے مقدس رشتے کو ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں اور اس میں جنس کی کوئی قید نہیں۔ 

شومئی قسمت کہ دیگر شعبہ جات کی طرح، ان شعبہ جات میں کہ جہاں خواتین و حضرات کا اختلاط ہوتا ہے، ہماری رھنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ دین جو کہ ھمارے پاس ایک مضبوط و مربوط ضابطہ حیات ہے اس کو پڑھ کر سمجھنے اور سمجھ کر عمل کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ 

بہتری کے آثار تو کوئی خاص نظر نہیں آتے، گزرتے وقت کے ساتھ صورتحال مزید بگڑتی ہی جارہی ہے اور سنبھلے بھی کیوں، کوئی دوا کی، نہ دعا۔ دعا ہے کہ مالک ہم سب کو کھرے اور کھوٹے کی پہچان نصیب فرمائے۔ آمین 





No comments:

Post a Comment